خوش نصیبی کہ اتنا پیار ملا

خوش نصیبی کہ اتنا پیار ملا
ہے بلاوے کا انتظار ملا
ایک میں ہوں کہ ہو خطا سر زد
وہ کرم ہے کہ بار بار ملا
اُس وسیلے کو پہلے کیوں نہ رکھوں
جس وسیلے سے کردگار ملا
جیسی آفات ہوں، میسر ہے
سائباں کتنا پائیدار ملا
دل سنبھلنے میں پل نہیں لگتا
مجھ کو یہ کیسا غمگسار ملا
جتنا اترائیں ہم بہت کم ہے
دو جہانوں کا تاجدار ملا
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *