داغ لگے تو دھونے میں بھی عمر لگا دی

داغ لگے تو دھونے میں بھی عمر لگا دی
ہم نے سپنے بونے میں بھی عمر لگا دی
ہنستے تھے تو صدیاں حیراں ہوتی تھیں
روئے تو پھر رونے میں بھی عمر لگا دی
بیگانے پن میں بھی اس نے عمر بِتائی
اور پھر میرا ہونے میں بھی عمر لگا دی
فرحت عباس شاہ
(کتاب – شام کے بعد – اول)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *