عمر گزری کسی کا غم کرتے
ہم سراپا فقیر ہوتے ہیں
کس طرح اپنے سر کو خم کرتے
دوسروں کو بھی درسِ عبرت ہو
ہاتھ ٹوٹیں ترے ستم کرتے
ہو گئے ہیں نہ جانے کتنے برس
درد اوراق پر رقم کرتے
حسن والے تری قسم کرتے
تیرے پیارے سے پیار ہم کرتے
دل بچھاتے ہم اس کے قدموں میں
روح واری قدم قدم کرتے
کیوں نہ ہم ان پہ کرتے جان فدا
کیوں نہ ہم اپنے سر کو خم کرتے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – سوال درد کا ہے)