آنکھ اور یاد کی دہلیز پہ اٹکے ہوئے آنسو کی قسم
ہر کوئی اپنے مراثم کا صلہ مانگتا ہے
ہم محبت کو بھی بیگار سمجھ لیتے ہیں
ڈوبتی رات ستاروں کی اذیت کی طرف تکنے سے کتراتی ہے
آنکھ میں جلتی ہوئی نیند پہ پتھر سا پڑا رہتا ہے
کس طرف جائیں وفاؤں کو نبھانے والے
کس کی چالاکی کو ایمان سمجھتے جائیں
درد بے لاگ مبصر کی طرح
آنکھ اور یاد کی دہلیز پہ اٹکے ہوئے
آنسو کے تحفظ کی دعا مانگتا ہے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – دو بول محبت کے)