دل جلا یا مرا دماغ جلا

دل جلا یا مرا دماغ جلا
اے خدا کوئی تو چراغ جلا
روشنی بھر گئی لہو میں بھی
اتنی شدت سے داغ داغ جلا
یاد کی رتھ سے درد اترا ہے
روح میں پھر کوئی چراغ جلا
اے مرے چور دل ذرا جلدی
ایک اک کر کے ہر سراغ جلا
دل کے جلنے سے خوشبوئیں پھیلیں
یوں لگا جیسے کوئی باغ جلا
آن بیٹھا تھا ننگی تاروں پر
اتنی معصومیت سے زاغ جلا
اب مرے دل سے اور کیا ہے تمہیں
ایک ہی باغ تھا جو باغ جلا
فرحت عباس شاہ
(کتاب – اداس اداس)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *