وہ تھوڑا سستا چکا
تو اٹھنے کے بارے میں سوچنے لگا
ابھی اس نے سوچنا شروع ہی کیا تھا
کہ اس کا دل کسی خاص جذبے سے دھڑک اٹھا
لیکن یہ دھڑکن
بے نام ہوتے ہوئے بھی
اس کے لئے انجان نہیں تھی
بڑی ہی آشنا
بڑی ہی شناسا دھڑکن تھی
تیز اور شدید دھڑکن
اور ہلکی ہلکی لرزش
اور کپکپی
ہوا نے ایک خاص دُھن چھیڑ دی تتھی
بڑی جانی پہچانی
اور درد انگیز دُھن
اُداس اور میٹھی دُھن
روح میں اتر جانے والی
فضا میں ہر طرف خوشبو ہی خوشبو پھیل گئی
اپنی اپنی سی، بھیگی بھیگی سی
آنسوؤں کی ہلکی ہلکی سی نمی لیے ہوئے
اور ہلکی ہلکی سی تلخی
اور ترشی لیے ہوئے
لہو نے دل کی تال پہ
شریانوں میں دیوانہ وار
ایک عجیب اور والہانہ رقص شروع کر دیا
خاموشی خود اپنی ہی لے پر جھومنے لگی
خیالوں کو پر لگ گئے
اور وہ روح ہی روح میں
رنگ برنگے کبوتروں کی طرح
اپنے اپنے پروں سے تالیاں بجا بجا کے
اِدھر سے اُدھر اُڑنے لگے
آس پاس سے گزرتی ہوئی
کجراری بدلیاں
بے وجہ ہنس ہنس پڑیں
اور اسے چپ لگ گئی
ہمیشہ کی طرح
اسے آج پھر چپ لگ گئی
آنسوؤں سے لبریز نگاہ کی نم آلود دُھند میں
دور سے ایک ہیولا ابھرا
بہت عجیب موسم ہو گیا تھا
جیسے صبح کی پہلی پہلی دھوپ میں
کسی نے چودہویں رات کی چاندنی ملا دی ہو
خوب چٹکی ہوئی چاندنی،
جوان اور اَلہڑ چاندنی،
ہیولا آہستہ آہستہ واضع ہونے لگا
اور سورج آہستہ آہستہ مدھم
پھول جھینپ کے
آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوگئے
اور آسمان نے دم سادھ لیا
ہمیشہ۔۔۔ ہمیشہ ایسے ہی ہوتا تھا
وہ جب بھی آتی ماحول ہی بدل جاتا
سرابی جب بھی ملتی
وہ ہر شئے سے بچھڑ جاتا
آسمان سے
زمین سے
وقت سے
اور خود اپنے آپ سے
ہر شئے سے
وہ بچھڑ جاتا
اور سرابی لاعلم رہتی
وہ سوچتا کہ اسے بتائے
میں بچھڑ گیا ہوں
دلاسے دینے والے موسموں سے
آگ بجھانے والی بارشوں سے
ساونوں اور برساتوں سے
گلے لگا لینے والی شاموں سے
دامن میں بھر لینے والی راتوں سے
جلن بجھانے والے دکھوں سے
ہر شئے سے بچھڑ گیا ہوں
وہ سوچتا
کہ اسے بتائے
لیکن بس سوچتا ہی رہتا
ہیولا آہستہ آہستہ قریب آ رہا تھا
اور اب ہیولا نہیں رہا تھا
وہ سرابی تھی
اس کی روح،
اس کا وجدان،
اس کی عبادت،
اس کا عشق،
اس کی دیوانگی،
اس کا مسلک،
اس کا ایمان،
اس کی کائنات
سرابی
وہ آئی،
اور آتے ہی پوچھا
یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو؟
وہ بولا
سستا رہا ہوں
کہنے لگی
چھوڑو،
کیا سستانا
چلو میرے ساتھ
بس تھوڑی ہی دور تک
مجھے کہیں پہنچنا ہے
وہاں پہنچا دو
پھر جہاں جی چاہے چلے جانا
وہ اس کے ساتھ چل پڑا
فرحت عباس شاہ