کیا تم نے کبھی دیکھا ہے
آخری راتوں کا چاند
رات بہ رات گھل گھل کے اندھیروں میں تحلیل ہوتا ہوا
کبھی سوچا ہے
کوئی گرا ہوا درخت
جلی ہوئی شاخیں
مٹی سے لتھڑے ہوئے پتے
کوئی ناراض اور آزدہ بچہ
جسے
اس کےماں باپ روتا چھوڑ کے کہیں چلے گئے ہوں
کیا کبھی تم نے دیکھے ہیں
ایسے میاں بیوی جن کی عمریں ڈھلتے سائیوں کو چھو رہی ہوں
اور ان کے ہاں پھر ایک بیٹی پیدا ہو جائے
اور کوئی ایسی لڑکی
کسے اچھی طرح معلوم ہو
کہ اس میں ایسی کوئی بات نہیں
جس سے اس کی کوئی قیمت لگ سکے
تم میرے دل کی بات نہ کیا کرو
مجھے اچھا نہیں لگتا
فرحت عباس شاہ
(کتاب – خیال سور ہے ہو تم)