اور پھر دیکھ کائنات ہے کیا
کچھ بھی تو ذہن میں نہیں ہوتا
رات کٹتی ہے پھر بھی مشکل سے
یہ مرے خیال کی ریاضت ہے
جب بھی سوچا تو چھُو لیا تجھ کو
اس قدر جذب کر چکا ہوں اسے
میری سانسوں میں اس کی خوشبو ہے
ہونٹ تو میرے ہلتے رہتے ہیں
لیکن آواز اس کی آتی ہے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – محبت گمشدہ میری)