بڑی چہل پہل ہے موت کی مرے شہر میں
شجر خیال کی شاخ شاخ پہ غم کھلا
تو مجھے لگا کہ جہان اصل میں عشق ہے
ترے خواب چھپنے لگے ہیں جب سے نگاہ سے
اسی دن سے میں تو تفکرات کی زد میں ہوں
وہ قیام گاہ، وہ ارتکاز، وہ خامشی
وہ سفر، بلا کا وہ انتشار، وہ شوروغل
یہ جو اضطراب بسا ہوا ہے خمیر میں
مرے خانہ ذاد کبیر کا کوئی شوق ہے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – ابھی خواب ہے)