رات، سمندر، ہجر، ستارے آپس میں

رات، سمندر، ہجر، ستارے آپس میں
کرتے ہیں کچھ خاص اشارے آپس میں
ایسے میں پھر دریاؤں کا کیا ہو گا
مل جائیں گے اگر کنارے آپس میں
جتنے تم مجبور ہو اتنے ہم بھی ہیں
یکساں ہیں احساس کے مارے آپس میں
دل اور آنکھوں کی آپس میں بنتی ہے
دے لیں گے کچھ دیر سہارے آپس میں
ایک ذرا آنکھیں بھر آئیں اشکوں سے
گڈ مڈ ہونے لگے نظارے آپس میں
فرحت عباس شاہ
(کتاب – تیرے کچھ خواب)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *