چھت پر آہن پوش فضائیں ساکت جامد
ہاتھ میں ٹوٹے پر
پاؤں تھکن کے بوجھ سے بوجھل
اور گٹھڑی میں سر
من میں سونے پن کی وحشت، انہونی کا ڈر
اور پھر اس پہ نفسا نفسی کے جنگل میں
دور تلک پیلے پھولوں کے ڈھیر لگے
سوچ رہا ہوں
بینائی سے جو کچھ طے ہو سکتا ہے
اور سماعت جہاں تلک جا سکتی ہے
ناخن جتنے پتھر کھرچ سکیں کھرچیں
سوچیں جتنا دوڑ سکیں
یا خواب جہاں تک پھیل سکیں
اور خواہش جتنا توڑنا چاہے، توڑے
ورنہ صدیوں کے گنجل
رستہ بنتے جانے کتنی دیر لگے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – خیال سور ہے ہو تم)