رستے میں تری یاد سے دوچار نہ ہوتے

رستے میں تری یاد سے دوچار نہ ہوتے
ہم بھول، بھلیوں میں گرفتار نہ ہوتے
نفرت کی کوئی بات اگر ہوتی تو جاناں
ہم تیرے لیے عمر سے بیمار نہ ہوتے
اک جان اگر وقف ہوا کرتی کسی پر
اک جان پہ سو طرح کے آزار نہ ہوتے
تو شامل احوال زمانہ اگر ہوتا
آنکھوں میں تری درد کے آثار نہ ہوتے
کس چیز سے لگ بیٹھتے حیران و پریشاں
بستی میں اگر یہ در و دیوار نہ ہوتے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – چاند پر زور نہیں)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *