پھوٹ جائے گا کسی روز یہ چھالا دل کا
باندھ جاتا ہے کوئی پٹی میری آنکھوں پر
کھول جاتا ہے کوئی چپکے سے تالا دل کا
ورنہ دریا بھی بہت چین سے تھا کشتی بھی
لے کے پھر ڈوب گیا ہم کو سنبھالا دل کا
تم سے آ ملتا میری دنیا مگر رستے میں
مل گیا تھا مجھے اک جاننے والا دل کا
رات آتی ہے مگر ہوتی نہیں تاریکی
پھیل جاتا ہے ہر اک سمت اجالا دل کا
فرحت عباس شاہ
(کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)