سجّاد بری کے لیے نظم

سجّاد بری کے لیے نظم
بے قراری تری فطرت میں نہ ہوتی
تو سفر ختم تھا کب کا تری بیماری کا
مجھ کو معلوم ہے یارا
تری شریانوں میں اب خون نہیں وحشت ہے
دل لگانا ترا اوہام کی خوشحالی سے
خواب میں خواب بکھرنے کے سوا کچھ بھی نہیں
درد کے نیزوں کا، کمزور توقع میں ترازو کا عمل
جس طرح تو نے سہا ہے یہ کوئی کیا جانے
جس طرح خدشے ڈراتے ہیں تجھے
جیسے ہر پل تجھے دیوار پہ دے مارتے ہیں
ہم بتائیں بھی کسی کو تو کوئی کیا مانے
تُو سمجھتا ہے کہ دکھڑوں میں توقف
تیرے ویران نصیبوں کا پلٹ جانا ہے
میرے یارا یہ تو بربادی کا سستانا ہے
تجھ سا بے چینی کے دامان میں پلنے والا
کب ہے یک لخت بدلنے والا
تو ہے اک بخت تو ہے بخت بھی ڈھلنے والا
درد کے گوشوں سے دیکھی ہے تری آنکھوں نے
اک سہم کے ساتھ
جس طرح دنیا کے چہروں میں چھُپی بے رحمی
جس طرح شہر میں ڈر ڈر کے اٹھائے ہیں قدم
تیری معصوم تمناؤں کے زخموں پہ رکھوں اپنی دعا کے بوسے
جس طرح تو نے دلاسے لیے تنہائی سے
غیر لوگوں سے پناہیں مانگیں
سائبانوں کے لیے ہاتھ اٹھائے تُو نے
میں ترے ساتھ رہا
تیری بے چینی کے ہاتھوں میں مرا ہاتھ رہا
یہ جو آیا ہے پڑاؤ سا ترے رستے میں
یہ تو آغاز ہے لاچاری کا
بے قراری تری فطرت میں نہ ہوتی
تو سفر ختم تھا کب کا تری بیماری کا
دل لگانا ترا اوہام کی خوشحالی سے
خواب میں خواب بکھرنے کے سوا کچھ بھی نہیں
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *