سکھ معطّل ہو گئے

سکھ معطّل ہو گئے
دکھ مسلسل ہو گئے
ہجرتیں کرنی پڑیں
در مقفّل ہو گئے
خون کی آتی ہے بُو
شہر جنگل ہو گئے
اُڑ گئے رخسار سے
اشک بادل ہو گئے
پیار کی رہ پر بڑے
لوگ پاگل ہو گئے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – سوال درد کا ہے)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *