آشوب
جس گھر کی چھت پر رہتا ہوں
اس کے نیچے دریا ہے
دریا پر بنے ہوئے گھر کی چھت پر رہتا ہوں
میرے اوپر بھی ایک چھت رہتی ہے
پتھر کی بنی ہوئی
چھتیں پرانی ہو جائیں تو ناقابل اعتبار ہو جاتی ہیں
میں ایک پرانے گھر کی چھت پر رہتا ہوں
ایک پرانی چھت کے نیچے
جہاں دریا ہے
تیز رفتار
اور
خوفناک دریا
فرحت عباس شاہ