راتیں اندھی ہوتی ہیں
راتوں نے اعلان کیا
سورج اندھا ہوتا ہے
دل نے کھڑکی کھولی تھی
تیز ہوا کے موسم میں
تنکا تنکا اڑا پھرا
دور دور تک جنگل میں
بستی تک تو آیا تھا
رستہ تیری یادوں کا
شہر میں افراتفری تھی
یادیں رستہ بھول گئیں
تو نے بھی نا سمجھایا
اپنے بھولے بھٹکے کو
فرحت عباس شاہ
(کتاب – عشق نرالا مذہب ہے)