میں محبت کرنے نکلا
ایک محبت کے دائرے سے نکلا
اور اپنے آپ سے
میں اپنے دائرے سے نکلا
اور دیکھا
میرے گھر میں
خود میرے اپنے گھر میں
میری محبتوں کی ضرورت ہے
میرے گھر میں
جہاں ایک ناتواں
اپنے ہاتھوں
اور اپنے چہرے کی جھریوں میں
بیتی ہوئی تھکن گنتی رہتی ہے
تھکن گنتی ہے
اور زخموں سے نگاہیں چرا جاتی ہے
ایسی بن جاتی ہے، جیسے دیکھے ہی نہیں
شام ڈھلتی ہے
زندگی ڈھلتی ہے
بخت ڈھلتا ہے
دکھ نہیں ڈھلتے
دکھ نہیں ڈھلتے
اور نگاہ چرانی پڑ جاتی ہے
میں نے دیکھا میرے گھر کو میری ضرورت ہے
مجھے ہر اس جگہ دھنکی ہوئی روئی کے گالے
اپنے آنسوؤں میں بھگو بھگو کے رکھنے ہیں
جہاں موسم اپنی ہٹ دھرمیوں کے نشان چھوڑ گئے ہیں
مجھے اس ناتواں کے پیروں پر اپنی ہتھیلیاں ثبت کرنی ہیں
ان تلووں کے نیچے اپنے بوسے بچھانے ہیں
اور اسکے چاندی بھرے سر کو اپنی گود میں لے کر چومنا ہے
اور اسے کہنا ہے
مسافر ٹھہرو!
رک جاؤ،
بیٹھ جاؤ،
سستا لو،
گو سفر ابھی ختم نہیں ہوا
لیکن کچھ آسان ضرور ہو گیا ہے
اسے کہنا ہے
مسافر!
اپنے پیروں کے کچھ چھالے مجھے بھی دے دو
مجھے بھی تمہارے ساتھ چلنا ہے
اپنے ضعیف کندھوں کا بار
کچھ میرے کندھوں پر بھی
تمہاری میری منزل ایک ہی ہے
گو ستاروں کا بوجھ بانٹا نہیں جا سکتا
لیکن ساتھ تو چلا جاسکتا ہے
مسافر!
ناتواں!
مجھے دیکھو، میرا چہرہ دیکھو
میری آنکھیں پہچانو
میری روح پہچانو
میں لوٹ آیا ہوں
میں نے زیادہ دیر نہیں کی
مجھے پہچانو
اور اگلے سفر پر روانگی کی اجازت دو
فرحت عباس شاہ