دیوانوں کے بھاگ نہ جاگے
صحرا صحرا بھاگے
گلی گلی کی خاک بھی چھانی
دُکھ اور سُکھ کی ایک نہ مانی
رات رات بھر جاگے
بے تابی کا دیس بسایا
بے چینی کا رنگ رچایا
دل کے آگے آگے
پور پور پر زخم سجائے
قدم قدم پر بوجھ اٹھائے
دنیا کو کیا لاگے
پیارے دل کو لوٹ ہی جائیں
جانے کس پل ٹوٹ ہی جائیں
سارے کچے دھاگے
دیوانوں کے بھاگ نہ جاگے
صحرا صحرا بھاگے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – من پنچھی بے چین)