کر گئے ہو تمام گھر خالی
کوئی آ کے ڈرا گیا پنچھی
ہو گیا ہے شجر شجر خالی
رات بیتے تو کوئی فرق پڑے
کاٹتی ہے ہمیں سحر خالی
جان جاؤ تو حسن ہے جیون
جو نہ جانو تو ہے سفر خالی
گھیر لاتا ہوں کوئی ویرانی
رات ہوتی نہیں بسر خالی
کوئی امید ہی نہیں باقی
اس لیے بھی ہے رہگزر خالی
فرحت عباس شاہ
(کتاب – چاند پر زور نہیں)