عشق اور جنگ میں سب جائز ہے

عشق اور جنگ میں سب جائز ہے
آنسوؤں کے سہارے زندہ رہنے والے
شاید ٹھیک سے عشق بھی نہیں کر پاتے
میں ہمیشہ سوچتا رہا
اور ڈرتا رہا
کہیں میرے عشق سے تمہیں تکلیف نہ ہو
میری محبت سے
تم پر کوئی بوجھ نہ آ پڑے
کہیں میں نا دانستہ
تمہارے کسی زخم پر اپنی سانسیں ثبت نہ کر بیٹھوں
نظموں کی تسبیح کرنے والے
کسی کو بہت زیادہ یاد کرتے ہوئے ڈرتے رہتے ہیں
کہیں اسے جوابدہ نہ ہونا پڑ جائے
میں جدائی اور محبت کی قسمیں اٹھانے والا شاعر
کیسے کہہ دوں عشق اور جنگ میں سب جائز ہے
میں عشق چھپاتا ہوں
اور جنگ سے نفرت کرتا ہوں
میں اگر کسی جنگ میں دونوں طرف سے مرنے والوں کی لاشوں پر
آنسو بہاتا ہوا مارا بھی گیا
تو وصیت کر جاؤں گا کہ
میری قبر کی تختی پر
میرے نام کی بجائے محبت اور امن لکھا جائے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – ہم اکیلے ہیں بہت)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *