عشق عجیب وبال نی سکھیو

عشق عجیب وبال نی سکھیو
کیسا غم بخشا ہے مجھ کو
غم ہی غم میں
بدل گیا ہے حال
چاہت چل گئی چال
نا اب دن گنتی میں آئیں
نا آئیں اب سال
جس بھی کسی نے لا پھینکا ہے
اجڑے ہوئے ہمارے دل پر
بے خبری میں جال
عشق عجیب وبال نی سکھیو
عشق عجیب وبال!
فرحت عباس شاہ
(کتاب – اور تم آؤ)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *