عشق کی کوئی بھی اتھاہ نہیں

عشق کی کوئی بھی اتھاہ نہیں
درد بھی آخری پناہ نہیں
جن پہ ہم اپنے پاؤں دھرتے ہیں
زخم ہوتے ہیں کوئی راہ نہیں
تخت کیوں بخت کا نصیب بنے
درد جوگی ہے بادشاہ نہیں
آپ بھی عشق میں رکاوٹ ہیں
آپ بھی میرے خیر خواہ نہیں
سرد جنگوں کی رسم ہے سو کہیں
کوئی مخصوص رزم گاہ نہیں
فرحت عباس شاہ
(کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *