کس نگری میں آن پڑے ہیں

کس نگری میں آن پڑے ہیں
سارے گھر ویران پڑے ہیں
سڑکیں پڑی ہوئی ہیں گم سم
رستے بھی سنسان پڑے ہیں
دل دل میں پت جھڑ اتری ہے
گُل بوٹے بے جان پڑے ہیں
کونسے دکھ چن لوں دنیا کے
کونسے دکھ آسان پڑے ہیں
قدم قدم پامال ہوئے ہیں
قدم قدم ایمان پڑے ہیں
اک مدت سے میں اور جیون
جنگل میں حیران پڑے ہیں
فرحت عباس شاہ
(کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *