کسی طرف لگیں تو کچھ سکوں ہو دل کے شہر میں

کسی طرف لگیں تو کچھ سکوں ہو دل کے شہر میں
ثواب تو الگ رہے عذاب کو ترس گئے
محبتیں رہیں دلوں کے درمیاں نہ خواہشیں
نہ ہجر کے دنوں کی کوئی لہر پاس رہ گئی
نہ جستجو نہ آرزو
نہ کو بہ کو کسی کی واپسی کی آس رہ گئی
سمے!
ترا ستم کہیں یا اپنی بے وفائیاں
کچھ اس طرح کے بیج بو گئیں مہیب ظلمتیں
کلی کلی شجر شجر سحاب کو ترس گئے
زمانہ سازیوں میں پیار کی ادائیں گم ہوئیں
رتیں بہار کو، چمن گلاب کو ترس گئے
وہ قحط ہے کہ خواب تک سراب کو ترس گئے
کسی طرف لگیں تو کچھ سکوں ہو دل کے شہر میں
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *