ہوئے قریب تو روحوں کی باس کھو بیٹھے
وہ کھیل کھیل میں ہوتا گیا بہت محتاط
ہنسی ہنسی میں ہم اپنے حواس کھو بیٹھے
اثر ہوا تری ضد کا کچھ اس طرح سے کہ ہم
جدائیوں کے تسلسل میں آس کھو بیٹھے
سمندروں کے سفر میں تمہیں یہ کیا سوجھی
ہمارے جیسا ستارہ شناس کھو بیٹھے
نہ پوچھ کیسے ہوئے شہر شہر میں عریاں
جو لوگ اپنی حیا کا لباس کھو بیٹھے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – ہم جیسے آوارہ دل)