گو میرا حافظہ اتنا اچھا نہیں
لیکن بچپن اور لڑکپن کی بہت ساری باتیں
مجھے بہت اچھی طرح یاد ہیں
گھر کی ویرانی اور اپنے اکیلے پن سے گھبرا کر
دروازے میں آ کر بیٹھنا
اور گلی میں آتے جاتے لوگوں کے چہرے تکتے رہنا
بہت سکھ دیتا تھا
آج بھی جب بہت اکیلا ہو جاتا ہوں
تو گھر کے دروازے میں آ بیٹھتا ہوں
آتے جاتے لوگوں کے چہرے بھی تکتا ہوں
لیکن بے چینی اور بڑھ جاتی ہے
یہ تو یاد نہیں
کہ مجھے اُس سے محبت کب ہوئی
البتہ یہ بات میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں
کہ مجھے محبت کا شعور آنے سے پہلے
محبت ہو چکی تھی
آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے
اپنے اپنے بڑوں کی نظروں سے چھپ کر
سردیوں کی لمبی لمبی راتیں
صحن میں بیٹھے بیٹھے
اور باتیں کرتے گزار دینا
ایک دوسرے کو اپنی اپنی سہیلیوں اور دوستوں کی باتیں
شرارتوں کے قصے سنانا
بہانے بہانے سے ایک دوسرے کے ہاتھوں سے کھیلنا
لڑائی جھگڑا کرنا
اور کسی کے بھی ہار جانے پر
کھلکھلا کر ہنس دینا گویا معمول تھا
یہ معمول ابھی بھی برقرار ہے
لیکن کچھ تبدیلیوں کے ساتھ
اب تو نہ کسی سے چھپنا پڑتا ہے اور نہ ڈرنا
جب بھی سرما کی لمبی راتیں آتی ہیں
صحن میں بیٹھا گھنٹوں
اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہوں
بے اختیاری میں اپنے ہی ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتا کہیں
گم ہو جاتا ہوں
اور پھر چونک اٹھتا ہوں جب آنکھوں میں گرم گرم نمی پھیلتی ہے
اور رخسار بھیگ جاتے ہیں
ایسے میں دانستہ اور زبردستی ہنسنے کی کوشش
کتنی ناکام اور کتنی کھوکھلی ہوتی ہے
میرے علاوہ کسی اور کی سمجھ میں آنا مشکل ہے
ایک ہی شہر میں رہتے تھے
تو ہزار ناراضگی کے باوجود
اکثر سرِ راہ ملاقات ہو جاتی
اور اپنی اپنی اناؤں کی پرواہ کئے بغیر
آپس میں بول پڑتے
لیکن اب تو ایک مدت ہوئی
پہلے اُس نے شہر بدلا
اور پھر میں نے
آج جب کبھی اداسی حد سے بڑھ جاتی ہے
تو دیوانہ وار گھر سے نکل پڑتا ہوں
مگر صبح سے شام تک مصروف اور پھرے پُرے راستوں کی
خاک چھان کے
جب واپس لوٹتا ہوں
تو خالی پن مزید بڑھ جاتا ہے
اور اداسی کچھ اور سوا ہو جاتی ہے
پہلے جس چیز کے لئے بھی دل چاہتا تھا
چاہے جتنی بھی قیمتی یا انمول ہوتی
حاصل کر لیا کرتا تھا
کبھی ضد کر کے اور کبھی کھانا نہ کھانے کی دھمکی دے کر
اور پھر فخر کیا کرتا
مزاج میں ہٹ دھرمی اور ضد تو اب بھی ویسی ہی ہے
لیکن ہٹ دھرمی سہنے اور ضد ماننے والا کوئی نہیں
دھمکی بھی دے سکتا ہوں
لیکن دھمکی میں آنے والا کوئی نہیں
اس کے باوجود
جو کچھ بھی چاہا ہے جیسے تیسے حاصل کیا ہے
اور دنیا کی بے شمار نعمتیں میسر ہیں
مگر
وہ لمحے جو بیت گئے
اور وہ وقت جو گزر گیا
کہاں سے لاؤں اور کس سے مانگوں
فرحت عباس شاہ