کہا میں نے کہاں ہو تم

کہا میں نے کہاں ہو تم
جواب آیا جہاں ہو تم
مرے جیون سے ظاہر ہو
مرے غم میں نہاں ہو تم
مری تو ساری دنیا ہو
مرا سارا جہاں ہو تم
مری سوچوں کے محور ہو
مرا زور بیاں ہو تم
میں اک لفظ محبت ہوں
مگر میری زباں ہو تم
فرحت عباس شاہ
(کتاب – روز ہوں گی ملاقاتیں اے دل)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *