کہیں کوئی غم کوئی سلگتا خیال رکھنا بھی جرم ٹھہرا

کہیں کوئی غم کوئی سلگتا خیال رکھنا بھی جرم ٹھہرا
عجیب رت ہے کسی کی یادیں سنبھال رکھنا بھی جرم ٹھہرا
اسے یہ کہنا وہ مجھ سے ملنے کبھی نہ آئے کہ اس نگر میں
دلوں کو آباد بستیوں کی مثال رکھنا بھی جرم ٹھہرا
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *