کوئی کس لیے ہے یہ کوئی بھی نہیں جانتا

کوئی کس لیے ہے یہ کوئی بھی نہیں جانتا
سبھی اپنے ہونے کے شوروغل میں ہیں مبتلا
وہ جو شام آ کے گری تھی درد کی گرد پر
اسے مڑ کے دیکھا تھا جانے والے نے دور سے
ترے ہونٹ مجھ سے چھپا رہے تھے لگی بجھی
تری آنکھ جل کے بدلتی جاتی تھی راکھ میں
بڑا انتظار کیا نگاہوں نے چاند کا
مگر آسمان تہی تھا اور تہی رہا
جہاں تیرے عیب تھے داستان سیاہ تھی
جہاں میرے عیب تھے زرد رنگ تھا چار سو
فرحت عباس شاہ
(کتاب – ابھی خواب ہے)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *