دل عمر سے سینے میں پریشان پڑا ہے
اک رستہ ہے آنکھوں میں بہت دیر سے خالی
اک شہر ہے سینے میں جو سنسان پڑا ہے
یہ کیسی گدایانہ روِش ڈھونڈی ہے دل نے
کیونکر کسی دہلیز پہ ہلکان پڑا ہے
بیماریِ دل وقت زیادہ نہیں دیتی
مہمان ترا گھڑیوں کا مہمان پڑا ہے
صحرا کی طرح دھوپ اگاتی ہے محبت
دل اتنا پیاسا کہ لبِ جان پڑا ہے
اجڑا ہے کوئی تندیِ حالات کے ہاتھوں
دہلیز پہ بکھرا ہوا سامان پڑا ہے
فرحت عباس شاہ