مجھے اور کہیں لے چل سانول

مجھے اور کہیں لے چل سانول
جہاں رات کبھی بھی سوئی نہ ہو
جہاں صبح کسی پہ روئی نہ ہو
جہاں ہجر نے وحشت بوئی نہ ہو
جہاں کوئی کسی کی کھوئی نہ ہو
مجھے اور کہیں لے چل سانول
جہاں شہر ہوں سارے ویرانے
جہاں لوگ سبھی ہوں بیگانے
جہاں سب کے سب ہوں دیوانے
جہاں کوئی ہمیں نہ پہچانے
مجھے اور کہیں لے چل سانول
جہاں ہاتھ نہ پھیلیں در بھی نہ ہوں
جہاں روگ کسی کے گھر بھی نہ ہوں
جہاں آزادی کے ڈر بھی نہ ہوں
جہاں ٹوٹے پھوٹے پر بھی نہ ہوں
مجھے اور کہیں لے چل سانول
جہاں نفرت دل میں بس نہ سکے
جہاں کوئی کسی کو ڈس نہ سکے
جہاں کوئی کسی پہ ہنس نہ سکے
جہاں کوئی بھی گنجل کس نہ سکے
مجھے اور کہیں لے چل سانول
جہاں درد کسی کو راس نہ ہو
جہاں کوئی ملول اداس نہ ہو
جہاں ظلمت کی بو باس نہ ہو
جہاں تو بھی زیادہ پاس نہ ہو
مجھے اور کہیں لے چل سانول
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *