مجھے تم یاد نہیں رہے

مجھے تم یاد نہیں رہے
یاداشت کی بہت ساری منزلیں ہوتی ہیں
کچھ منزلیں سر ہو جاتی ہیں اور بہت سی نہیں
تمہارے بارے میں یاداشت کی وہ تمام منزلیں
جو میں نے سر کر لیں
اب ان منزلوں نے مجھے سر کر لیا ہے
میں یاد اور فراموشی کے درمیان
کسی عجیب سے ابہام میں قید
چیخ چیخ کے پتہ نہیں کسے پکارتا ہوں
اور پتہ نہیں میری آواز میرے حلق میں کیوں پھنس جاتی ہے
کچھ راستے میں جن پر شام کے جانے کونسے سمے جا کر بیٹھتا تھا
مجھے اب صرف جا کر بیٹھنا یاد ہے راستے یاد نہیں رہے
میں بھول چکا ہوں وہ راتیں کون تھیں
جو مجھے سونے نہیں دیتی تھیں
مجھے صرف رتجگے یاد رہ گئے ہیں
میں رونا بھول چکا ہوں
لیکن وہ آنسو جو مسلسل میرے رخساروں پر بہتے
لکیریں بناتے
میرے دامن میں گرا کرتے تھے۔۔۔۔
میں درد بھی بھول چکا ہوں
مجھے صرف دل یاد ہے
اور صرف محبت یاد ہے
مجھے تم یاد نہیں رہے
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *