مجھے دیکھنے دو
جو آسمان کا پر پہاڑ کے سر پہ دیر سے بج رہا ہے
سنو! سنو!
وہ صدا وہ دور سے آنے والی صدا، پہاڑ کی چیخ
پر کی جھپٹ
تباہی کی راگنی
مجھے دیکھنے دو
خدا جو لیکھ کی زد میں آئے دکھی پہاڑ کی پشت پر
بڑی آب و تاب سے سج رہا ہے
سنو! سنو!
وہ ہنسی وہ قدرتِ بے پناہ کی پُر سکون ہنسی
وہ ہنسنا وہ کھلکھلانا غرور کا
وہ تمسخرانہ وہ حکمرانہ وہ جابرانہ ہنسی
ہنسی میں وہ گنگنانا غرور کا
مجھے دیکھنے دو جو وقت عمر سے جج رہا ہے
ہمارا، دنیا کا، کائنات کا، زندگی کا
سنو! سنو!
وہ شکستہ پھیکا کلام، ٹوٹے حروف، ہونٹوں پہ لرزشیں
مجھے دیکھنے دو وہ زرد رنگ وہ پانی پانی نگاہ
آنکھوں میں بے بسی
مجھے دیکھنے دو
پرے ہٹو
مجھے دیکھنے دو جو آسمان کا پر پہاڑ کے سر پہ دیر سے بج رہا ہے
جو سج رہا ہے اسے بھی دیکھنے دو مجھے
فرحت عباس شاہ