مرے جسم و جاں میں کئی ہیولے ہیں راکھ کے
کسی چارہ گر کی تلاش ہوتی تو آپ بھی
مجھے اپنے جیسا سمجھ کے کان میں بولتے
کئی لال رنگ کے خوف تھے مرے صحن میں
مری بے بسی مری بے زبانی میں قید تھی
جو لپٹ لپٹ کے خیال و خواب کی شاخ سے
ہمیں مار جاتے ہیں وہم تیری ہی چپ کے ہیں
کبھی اس کے اور ہمارے ربط عجیب تھے
نہ صدائیں تھیں نہ سکوت تھے کہیں درمیاں
فرحت عباس شاہ
(کتاب – ابھی خواب ہے)