تمہاری تلخیوں سے
اور تمہارے ناتراشیدہ رویوں سے
تمہاری چھوٹی چھوٹی رنجشوں سے
اور بڑی ناراضگی سے بھی
محبت کم نہیں ہوگی
تمہاری شہر بھر سے دل لگا لینے کی عادت سے
تمہاری بےوفائی سے
تمہاری بےحسی سے بھی
محبت کم نہیں ہوگی
انا کا درمیاں آ کر
کئی بےساختہ جذبے اچانک مار جانے سے
دلوں کو ذات پر سے وار جانے سے
کسی وادی میں جا بسنے
کسی صحرا میں رستہ بھول جانے
یا سمندر پار جانے سے
محبت کم نہیں ہوگی
کسی کے جیت جانے سے، کسی کے ہار جانے سے
محبت کم نہیں ہوگی
فرحت عباس شاہ
(کتاب – شام کے بعد – دوم)