کبھی جڑوں میں زہر اتار لیا
کبھی لبوں کے پیچھے مار لیا
اس ڈر سے کہ درد کی شدت میں
کہیں نکل نہ جائے آہ پیا
مرا شام سلونا شاہ پیا
ہمیں جنگل جنگل بھٹکا دو
ہمیں سولی سولی لٹکا دو
جو جی سے چاہو یار کرو
ہم پڑ جو گئے تری راہ پیا
مرا شام سلونا شاہ پیا
کہیں روح میں پیاس پکارے گی
کہیں آنکھ میں آس پکارے گی
کہیں خون کہیں دل بولے گا
کبھی آنا مقتل گاہ پیا
مرا شام سلونا شاہ پیا
تری شکل بصارت آنکھوں کی
ترا لمس ریاضت آنکھوں کی
ترا نام لبوں کی عادت ہے
مری اک اک سانس گواہ پیا
مرا شام سلونا شاہ پیا
ہمیں مار گئی تری چاہ پیا
فرحت عباس شاہ