مجھے ایسے تو نا بھول پیا
مرے تجھ بن قول قرار گئے
مرے کھوٹے پڑے اصول پیا
تجھے پلکیں مری ہُلارے دیں
مری پینگوں پر بھی جھول پیا
میں نے جب سے عشق ریاضت کی
مجھے ہر شے لگے فضول پیا
تو کیسا کاروباری تھا
مرا لُوٹ کے لے گیا مُول پیا
ہیں اتنے کہاں نصیب مرے
میں پاؤں تہاری دُھول پیا
فرحت عباس شاہ