تم ملے ہو تو درد جاگ اٹھے
روح کا اضطراب کیا کم ہو
آرزو میں ہے اِرتعاش بہت
اختیارات کا مُعاملہ ہے
تم سے شاید نہ نبھ سکے میری
تیری عظمت بھی ہے اسی میں کہ تم
مجھ کو مری انا سے جینے دو
عشرتیں اپنی ہست سے ہیں سبھی
قطرہ قطرہ ہے دریا دریا ہے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – محبت گمشدہ میری)