منزل-جو تم نہیں ہو

منزل-جو تم نہیں ہو
تھکی ماندی زندگیوں سے بھرے اس شہر میں
آخر کوئی کب تک گرتی ہوئی دیواروں کو تھامتا پھرے
گرتی ہوئی دیواروں کے اس شہر میں
اے میرے پیروں پر کھڑے ہوئے آخری شخص
وہ لمحہ آ پہنچا ہے کہ میں تم سے اپنے پاؤں واپس لے لوں
مجھے پہلی بار صرف اپنے سفر پر روانہ ہونا ہے
اس منزل کے لیے جو تم نہیں ہو
فرحت عباس شاہ
(کتاب – خیال سور ہے ہو تم)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *