دیکھیں گے ترے ہجر کا چرچا کوئی دن اور
تم دل کو ذرا پیار سے سمجھاتے تو اتنا
ممکن تھا کہ کرتا نہ تقاضا کوئی دن اور
اک شہر کہ بس آج کے دن تک ہے سلامت
اک وہم کہ اس راکھ پہ ہو گا کوئی دن اور
یہ راستے کھا جائیں گے ہر شخص کی آنکھیں
بدلا نہ اگر شہر کا نقشا کوئی دن اور
رہنے دو ابھی ڈوریاں گردن میں ہماری
ہونے دو ابھی پُتلی تماشا کوئی دن اور
گھبرا کے پلٹ آؤں گا ویرانی جاں سے
رہنے دو ابھی مجھ کو اکیلا کوئی دن اور
فرحت عباس شاہ
(کتاب – سوال درد کا ہے)