موسم تھا تنہائی کا

موسم تھا تنہائی کا
حالت بارش جیسی تھی
رنجش بھی کم بخت بھلا
کب پیدا ہو جاتی ہے
تم ہوتے تو ساون بھی
میرے ساتھ پھرا کرتا
شہر کی ساری سڑکیں تو
اپنی دیکھی بھالی ہیں
پل کے نیچے پیپل کا
ایک درخت نشانی تھا
بارش بھی ہوتی ہو گی
پیپل بھی ہوتا ہو گا
ایک اکیلے کمرے میں
نا بارش نا پیپل ہے
فرحت عباس شاہ
(کتاب – عشق نرالا مذہب ہے)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *