جی لیا میں نے سہارے بن بھی
ساتھ دینا ہے تو دے تنہائی
ورنہ ہم خوش ہیں تمہارے بن بھی
لوگ کہلاتے ہیں شاعر خود کو
زندگی دکھ میں اتارے بن بھی
میں تمہارے ہی لیے اٹھوں گا
تم چلے آنا اشارے بن بھی
کس قدر دل ہے ہمارا مضبوط
جی لیا جان سے پیارے بن بھی
تیرے نزدیک کوئی کیا شے ہے
تُو تو خوش ہے نا ہمارے بن بھی
فرحت عباس شاہ
(کتاب – اے عشق ہمیں آزاد کرو)