کہاں جمال ٹھہرتا ہے اس جمال کے بعد
اسی لیے تو ہے اکمل کہا گیا تجھ کو
ہر اک کمال ہے آتا ترے کمال کے بعد
بدل گئی شب معراج کائنات کے رنگ
خدا بھی اور نظر آیا ہے وصال کے بعد
بس ایک آپ ہیں اور زندگی ہے نور بھری
کہیں بھی، کچھ بھی نہیں آپ کے خیال کے بعد
کہیں رہائی نہیں ملتی آپ سے ہٹ کر
پرندہ جائے کہاں رحمتوں کے جال کے بعد
فرحت عباس شاہ