ہجر ، آزار ہو گیا ہے مجھے

ہجر ، آزار ہو گیا ہے مجھے
اور لگاتار ہو گیا ہے مجھے
اک خبر دوں تجھے میں اندر کی
موت سے پیار ہو گیا ہے مجھے
میں بھی حیراں ہوں تجھ سے آخر کیوں
اب سروکار ہوگیا ہے مجھے
اب تلک جس سے میں رہا غافل
کتنا دلدار ہوگیا ہے مجھے
پہلے لاحق ہوا تھا میں اس کو
اب مرا یار ہوگیا ہے مجھے
فرحت عباس شاہ
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *