ہم اربوں ہم کھربوں

ہم اربوں ہم کھربوں
ہم اربوں ہم کھربوں سارے
ہم اربوں ہم کھربوں
اِک دوجے کا سینہ کھود کے
ڈھونڈ رہے ہیں پر
خون اُنڈیل کے بنیادوں پر
ڈال رہے ہیں گھر
اِک دوجے سے اپنی قامت بڑھانے کی خاطر
اپنی اپنی جڑیں اکھاڑ کے گروی رکھ آئے ہیں
ناپ رہے ہیں تاریکی سے آزادی کی لاش
دیکھ رہے ہیں سُورج کی آنکھوں میں ڈال کے آنکھ
لذت کے پاتال میں بیٹھ کے پہروں پہروں کھرچ رہے ہیں
جسموں کے ناسُور
ہم محصور خیالوں والے ہم بے بس مجبور
ہم اربوں ہم کھربوں سارے
ہم اربوں ہم کھربوں
فرحت عباس شاہ
(کتاب – آنکھوں کے پار چاند)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *