جس شہر میں ہر شخص تھا سلطان سے آگے
صحرا میں کوئی اور نہ تھا میرے علاوہ
اک خامشی برپا تھی ترے دھیان سے آگے
اک شہر مسافت میں رہا دیکھیے تقدیر
دو چار قدم بے سر و سامان سے آگے
اب پیر سلامت ہیں نہ رستے ہیں نہ منزل
بڑھ آئے تو تھے شوق میں امکان سے آگے
جب ہاتھ سلامت نہ ہوں اپنے تو کسی کو
کچھ دیر نہیں لگتی گریبان سے آگے
فرحت عباس شاہ