ہم سے کرتا ہے گفتگو اب بھی

ہم سے کرتا ہے گفتگو اب بھی
درد ہے دل کے رُوبرو اب بھی
جانے کن گردشوں میں گرد ہوا
جس کو گردانتا ہے تُو اب بھی
ہم تو تھک ہار بھی چکے لیکن
عشق پھرتا ہے کُو بہ کُو اب بھی
گھیر لیتی ہے مجھ کو شام کے بعد
تیری غم ناک آرزو اب بھی
بین مجھ کو سنائی دیتے ہیں
کوئی روتا ہے چار سُو اب بھی
دل کو کچھ خاص خاص لمحوں میں
ہم نے رکھا ہے تند خو اب بھی
فرحت عباس شاہ
(کتاب – جدائی راستہ روکے کھڑی ہے)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *