ہم کھڑے رہتے اگر ہوتی شجر کی زندگی

ہم کھڑے رہتے اگر ہوتی شجر کی زندگی
تو نے غم دے کر ہمیں دے دی سفر کی زندگی
چار دن بھی بس تسلی کے لیے کہتے ہیں لوگ
چار دن کی بھی نہیں ہوتی بشر کی زندگی
ورنہ ہم تو موت میں عمریں بتاتے ہیں یہاں
یاں اگر کچھ ہے تو ہے حسن نظر کی زندگی
رفتہ رفتہ میں در و دیوار میں مل جاؤں گا
مار دے گی ایک دن مجھ کو یہ گھر کی زندگی
رات نے سورج کو مارا دن نے مارا چاند کو
رات اور دن نے ہی دی شمس و قمر کو زندگی
فرحت عباس شاہ
(کتاب – اک بار کہو تم میرے ہو)
Share:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *