بڑی گہری اداسی ہے کبھی ملنے چلے آؤ
اگر تم دیوتا ہو تو مری بے انت تنہائی
تمہاری دیوداسی ہے کبھی ملنے چلے آؤ
زمانے بھر میں میں نے ایک بس تم ہی کو چاہا ہے
مری مردم شناسی ہے کبھی ملنے چلے آؤ
تمہارے بعد میرا وحشتوں کی زد میں آیا دل
کسی صحرا کا باسی ہے کبھی ملنے چلے آؤ
تمہارے بن مجھے لاحق ، عجب سی افراتفری ہے
عجب سی بدحواسی ہے کبھی ملنے چلے آؤ
میں اپنی زندگی کی آخری سیڑھی پہ بیٹھا ہوں
بس اب مہلت ذرا سی ہے کبھی ملنے چلے آؤ
فرحت عباس شاہ
(کتاب – مرے ویران کمرے میں)